آصف زرداری پھر پھنس گئے!


دو ٹوک

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کو جب احتساب عدالت نے کرپشن کے آخری مقدمے میں بھی بری کیا تو اکثر لوگوں کو حیرت ہوئی تھی۔ ایک بزرگ سیاستدان نے راقم سے ٹیلیفون پہ گفتگو کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ
یہی اندازِ تجارت ہے تو کل کا تاجر
برف کے باٹ لیے دھوپ میں بیٹھا ہوگا
اسی نوعیت کے تبصرے گردش میں تھے جنہیں سن کر قومی احتساب بیورو (نیب) کو جوش آگیا۔ اب نیب نے احتساب عدالت فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ہے جس میں آصف علی زرداری کی رہائی کو چیلنج کیا گیا ہے۔ نیب حکام کا کہنا ہے کہ سابق صدر پاکستان کے خلاف غیر قانونی اثاثہ جات کیس میں 22 ہزار مصد قہ دستاویزات موجود ہیں۔ جنہیں احتساب عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ سارے گواہ بھی پیش نہیں ہوئے اور دوران سماعت ہی اچانک آصف علی زرداری کو مقدمہ سے بری کردیا گیا۔ کراچی کی ایک کمپنی کے خلاف جعلی ڈگریاں فروخت کرنے کا مقدمہ بنا۔ کمپنی سربمہر کردی گئی اس کے مالک اور کئی کارندوں کو گرفتار کیا گیا۔ پھر اچانک اسلام آباد کی سیشن عدالت سے ان کی رہائی عمل میں آگئی۔ بعدازاں رہائی کے خلاف ایک اور گروپ نے مقدمہ دائر کیا۔ تحقیقات ہوئی، سیشن عدالت کا جج پکڑا گیا۔ ہائی کورٹ کی تین رکنی بنچ نے تحقیقات کی جس کے روبرو مذکورہ جج نے یہ اعتراف کیا کہ اس نے رہائی کے عوض 50 لاکھ روپے رشوت وصول کی تھی۔ اس قسم کے واقعات عموماً ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ عدلیہ کے ججوں کے بارے میں اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وہ عام پبلک سے الگ تھلگ رہیں‘ ان سے میل جول نہ رکھیں۔ سابق صدر پاکستان جنرل(ر) پرویز مشرف کو اقتدار سے نکالنے والے سابق چیف جسٹس کوئٹہ میں حامد کرزئی کی ہفتہ وار تقریب میں شریک ہوتے تھے، بعدازاں حامد کرزئی افغانستان کے صدر بن گئے۔ حال ہی میں سندھ کے ایک وزیر کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں وہ رقاصہ کے سرپر شراب کا گلاس رکھ کر خود بھی رقص فرما رہے ہیں۔ حکمران طبقہ‘ موروثی سیاستدان اور بے لگام انتظامیہ کی اکثریت اس حمام میں ننگی ہے۔
اس معاشرے میں چھوٹے اور کمزور چور جیلوں میں سڑتے ہیں اور بڑے سفید پوش ڈاکوؤں کو پولیس سیلوٹ کرتی ہے۔ کراچی کی سمندری مخلوقات میں کیکڑے بھی شامل ہیں۔ یہ ہشت پا ہوتے ہیں۔ کھانے میں بڑے لذیذ اور تاثیر میں گرم ہوتے ہیں۔ انہیں بڑی تعداد میں مشرق بعید اور دیگر ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے انہیں ایک ٹوکرے میں رکھ کر بند کردیا جاتا ہے۔ سب سے اہم مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ایک دوسرے کے پیچھے ٹوکرے میں سے نکل کر بھاگنے کی کوششیں کرتے ہیں، انہیں سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اگر اس پکڑ دھکڑ میں کسی کیکڑے کی ایک بھی ٹانگ مضروب اور زخمی ہوجائے تو اس کی قیمت زیرو ہوجاتی ہے اور بیرونی درآمد کنندہ اسے قبول نہیں کرتا۔ پاکستان کی سیاست میں بھی یہی کھیل چلتا ہے ۔نئے حکمران اپنے پیش رو حکمرانوں میں کیڑے اس لیے نکالتے ہیں تاکہ کرپشن کے شور میں ان کی اپنی بد عنوانیاں پوشیدہ ہوجائیں۔ شریف برادران کا ’’طریقۂ واردات‘‘ آصف علی زرداری سے مختلف تھا۔ ان کا ہدف غیر ملکی مالیاتی اداروں سے قرضوں کا حصول اور پھر اس قرضے سے میگا پروجیکٹس کا آغاز کیا جاتا تھا۔ قرضے میں مبینہ کمیشن اور اپنے ہی مختلف ناموں سے موجود کمپنیوں کو ٹھیکے دے کر نوٹ سمیٹے جاتے تھے۔ کرپشن اور رشوت کے معاملے میں پاکستان دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہے۔ پہلا بھارت اور دوسرے تیسرے نمبر پرو یتنام اور تھائی لینڈ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی کرپشن کے ساتھ وہ ملک کیوں ترقی کررہے ہیں اور پاکستان کیوں پسماندہ اور غریب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ تینوں ملکوں میں بدعنوانی سے کمایا ہوا پیسہ ان ہی ملکوں میں خرچ ہوتا ہے اور پاکستان میں کرپشن کا پیسہ بیرون ملک منتقل ہوجاتا ہے جو بینکوں میں جمع رہتا ہے یا پھر ان ملکوں میں جائیدادیں خریدی جاتی ہیں۔ اگر پاکستان میں بھی کرپشن کا پیسہ ملک میں ہی صنعت وتجارت اور زراعت وتوانائی کے شعبوں پر خرچ ہوتو وطن عزیز بھی ترقی کرسکتا ہے‘ پاکستانی بدعنوانوں کے 200 ارب ڈالر تو صرف سوئس بینکوں میں جمع ہیں۔ یہی پیسہ پاکستان کی فلاح وبہبود پر خرچ ہوسکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے ایسی اسکیم نافذ کی جاسکتی ہے جس میں کالا دھن استعمال کرنے کے لیے مخصوص شعبے مقرر ہوں، جو ایک اعلان کردہ مدت کے لیے ٹیکس فری بھی ہوں۔
آصف علی زرداری کا یہ بیان بڑی دلچسپی سے پڑھا گیا ہے کہ’’میں عدلیہ سے لڑتا نہیں ہوں۔ان کے ساتھ بھاگتا ہوں جب تک وہ تھک نہیں جاتے‘‘ یہ ایک کامیاب حکمت عملی ہے جس نے گزشتہ چار سال کے دوران انہیں تحفظ فراہم کیا ہے۔ ان کا معاملہ گھوم پھر کر ایک بار پھر لاہور ہائی کورٹ جا پہنچا ہے۔ اس بار مدعی نیب جیسا ادارہ ہے ۔ الزامات کی طویل فہرست ہے۔ سندھ میں ایک سابق نگراں وزیر اعلیٰ ایک سابق میئر‘ موجودہ اور سابق وزراء سمیت 15 سیاستدان اور بیورو کریٹس سمیت 1500 کرپشن کے مقدمات میں نیب کو مطلوب ہیں۔ جن کے خلاف مقدمات کھلنے والے ہیں۔ بڑے سے بڑے بازی گر اور شطرنج کے کھلاڑی سے بھی کہیں بھول چوک اور غلطی ہوجاتی ہے جو اس کی شکست کا باعث بنتی ہے۔ آصف علی زرداری ڈالر گرل ایان علی اور ڈاکٹر عاصم حسین جیسے لوگوں کو اداروں کے شکنجے سے بچانے اور باہر نکالنے میں تو کامیاب ہوگئے تھے، لیکن گزشتہ دنوں ان کے فرنٹ مین اور اومنی گروپ کے مالک انور مجید اور ان کے صاحبزادے کی انٹری سے ادارے چوکنا ہوگئے ۔انور مجید دو سال قبل اداروں سے ٹکراؤ کے بعد بیرون ملک چلے گئے تھے، لیکن چند دن قبل ان کی واپسی ہوچکی ہے۔ انور مجید کے والد فوج میں میجر اور سسر بریگیڈیئر تھے۔ ان کی والدہ غیر ملکی ہیں انہوں نے ایچی سن کالج سے تعلیم حاصل کی۔ اس پس منظر کے ساتھ آصف علی زرداری سے دوستی ان کی سپر سانک ترقی کی بنیاد بنتی چلی گئی ۔سندھ کی سیاست میں آصف علی زرداری کی قربت کے باعث جو مقام ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو حاصل تھا وہ انور مجید نے حاصل کرلیا۔ شوگر ملوں سے لے کر زمینوں کے معاملات تک ہر جگہ انور مجید فرنٹ مین بن گئے اور ان کا سکّہ چلنے لگا۔ اس قربت کی ایک وجہ آصف زرداری کی 8 سالہ اسیری کے دوران انور مجید کا لگاؤ اور خدمات بھی تھیں۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور حکمران طبقہ کے ساتھ ان کے خصوصی مراسم بھی ہیں، تاہم بعض امور پر اداروں سے ٹکراؤ کے باعث انہیں ازخود جلاوطنی کاٹنی پڑی۔ آصف زرداری بھی سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دور میں’’اینٹ سے اینٹ بجانے ‘‘ کا بیان دے کر ڈیڑھ برس تک بیرون ملک مقیم رہے تھے۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف پر ’’برا وقت‘‘ آنے کے باعث انہیں اپنے معاملات سیدھے کرنے کی مہلت مل گئی۔ انہیں حالات سے بھر پور فائدہ اٹھانے کا گربھی آتا ہے، لیکن اس راہِ پر خطر پر بہت سنبھل کر چلناپڑتا ہے۔ معمولی سی جلد بازی بھی پوری بساط الٹ دیتی ہے۔ زیادہ ہوشیاری نقصان کا باعث بن جاتی ہے ‘ ڈالر گرل اور ڈاکٹر عاصم حسین کی رہائی اور گلو خلاصی تک تو معاملہ ٹھیک تھا، لیکن انور مجید کی واپسی سے یہ خدشا پیدا ہوگیا کہ اب اویس مظفر ٹپی سمیت سارے بیرون ملک مقیم ’’پنچھیوں ‘‘ کی واپسی شروع ہو جائے گی۔ قیاس ہے کہ آصف علی زرداری کے خلاف نیب کی تازہ کارروائی انہیں قابو کرنے کی ایک کوشش ہے۔

Electrolux
مختار عاقل سینئر صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ وہ ایک عامل صحافی کے طور پر پیشہ صحافت سے منسلک ہوئے اور گزشتہ چار دہائیوں سے سندھ اور کراچی کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کا براہ راست مشاہدہ کر رہے ہیں