جامع مذاکرات کی افغان پیش کش

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کشیدگی ختم کرنے کے لیے باضابطہ مذاکرات کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان سے جامع مذاکرات کے لیے تیار ہیں، ان کا کہنا تھا پاکستان کے ساتھ امن افغانستان کا قومی ایجنڈا ہے ایک ایسا امن جس کی بنیاد سیاسی نظریہ ہو۔ خطے کی سلامتی کی خاطر ہم منطق اور استدلال کے تحت ہر قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں انہوں نے باغیوں اور جنگجوؤں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ امن عمل کا حصہ بن جائیں اگر وہ افغان ہیں اور کسی دوسرے کے آلہ کار نہیں ہیں تو پھر وہ امن کے راستے کا انتخاب کریں میں سب کی طرف امن کا ہاتھ بڑھارہا ہوں اور کہتا ہوں کہ امن خدا کا حکم ہے وہ عیدالاضحی کے موقع پر افغان صدارتی محل میں خطاب کررہے تھے۔
صدر اشرف غنی نے پاکستان کو امن کے لیے جامع مذاکرات کی جو پیش کش کی ہے اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے اور اس کام کو آگے بڑھانے کے لیے اداروں کو آغاز کردینا چاہئے، پہلے تو جامع مذاکرات کی وسعت کا تعین کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ کن کن علاقوں اور شعبوں کو محیط ہوگا ،موضوعات کا تعین کرکے تیزی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے کہ فوری طور پر امن کا قیام دونوں ملکوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ افغانستان میں امن و استحکام کا فائدہ نہ صرف افغانستان کو ہوگا بلکہ یہ پاکستان کے حق میں بھی مفید ہے، یہ بات ماضی میں کئی بار پاکستان کے مختلف حکمران اور عسکری قائدین کہہ چکے ہیں اور موجودہ قیادت بھی اس کا اعادہ کرتی رہتی ہے لیکن مقام افسوس و حیرت ہے کہ دونوں طرف امن کی خواہش تو موجود ہے جس کا اظہار افغان حکمران بھی کرتے ہیں تو پھر سوچنے اور دیکھنے کی اصل ضرورت یہ ہے کہ آخر خرابی کہاں ہے کہ عملاً ایسا ممکن نہیں ہوپا رہا۔محسوس ہوتا ہے کہ افغانستان میں بعض ایسے عناصر حکومت کے اندر اور باہر ضرورموجود ہیں جو حامد کرزئی کی حکومت میں تھے اور اب بھی ہیں جو اپنے صدور کی خواہش کو عمل کا جامہ نہیں پہننے دیتے اور یہ نیک خواہشات دھری کی دھری رہ جاتی ہیں، افغان سرزمین پر ایسے عناصر بھی موجود ہیں جنہوں نے پاکستان کے مختلف آپریشنوں کے دوران وہاں پناہ حاصل کرلی اور اب وہ کسی نہ کسی انداز میں پاکستان کے اندر کارروائیاں کرتے رہتے ہیں، پاکستان کئی بار افغانستان سے کہہ چکا ہے کہ وہ ان عناصر کے خلاف کارروائی کرے اور انہیں پاکستان کے حوالے کرے لیکن بوجوہ ایسا ممکن نہیں ہوا اپنے طور پر پاکستان نے سرحد پر حفاظتی اقدامات شروع کررکھے ہیں، ایک توسرحد پر لوگوں کی آمدورفت کو دستاویزی بنادیا گیا ہے اس سے پہلے ویزے کے بغیر بھی لوگوں کی آمدورفت جاری رہتی تھی جواب ممکن نہیں رہی، مزید براں غیر روایتی راستوں سے غیر قانونی آمدورفت ناممکن بنانے کے لیے طویل سرحد پر باڑ بھی لگادی گئی ہے اور پاکستان نے افغانستان کو بھی پیش کش کی ہے کہ افغانستان کی جانب بھی باڑ لگائی جاسکتی ہے امید ہے کہ حکام اس سلسلے میں مثبت جواب دیں گے۔
سرحد کے قریبی علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی دوسرا آپشن ہے جو دونوں ملکوں کو مل کر کرنی چاہئے کیونکہ سرحدی علاقے کچھ اس طرح باہم پیوست ہیں کہ کارروائی کے دوران ایک دوسرے ملک کے علاقوں میں آنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے اس لیے یہ آپریشن اگر دونوں ملک مل کر کریں تو کامیابی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں جس کا فائدہ بھی دونوں ملکوں کو ہوگا۔
اہم بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی فضا پر بدگمانی کے جو بادل چھائے رہتے ہیں وہ اگر چھٹ جائیں تو مذاکرات کا آغاز خوش اسلوبی سے ہوسکتا ہے اور اطمینان بخش طریقے سے آگے بڑھ سکتا ہے، جامع مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچ جائیں تو بھی وہ عملی اقدامات کیے جاسکتے ہیں جو امن کے قیام میں ممدثابت ہوں۔ ابھی حال ہی میں امریکا نے اپنی جس افغان پالیسی کا اعلان کیا ہے اس کے تحت افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھائی جائے گی، یہ اقدام امریکی کمانڈروں کے مطالبے پر کیا گیا ہے اس طرح امن کی جانب پیش رفت میں کوئی مدد کس طرح مل سکتی ہے یہ تو امریکی کمانڈر یا صدر ٹرمپ جانتے ہوں گے لیکن صدر اشرف غنی نے افغان جنگجوؤں کو بھی مذاکرات کی جو پیشکش کی ہے اگر یہ بات آگے بڑھتی ہے اور خود امریکا بھی اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تو بالآخر یہیں سے امن عمل کا راستا نکل سکتا ہے۔امریکا کا خیال ہے کہ پاکستان اگر طالبان پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرے تو وہ مذاکرات کی میز پر آسکتے ہیں لیکن اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ طالبان پر پاکستان کا ایسا غیر معمولی اثرورسوخ نہیں ہے کہ وہ ان سے ہر بات منواسکے یا ان کی خواہش اور مرضی کے علی الرغم انہیں مذاکرات پر مجبور کرسکے۔
ماضی میں پاکستان کی مسلسل کوششوں سے طالبان کے ساتھ مذاکرات ضرور شروع ہوگئے تھے لیکن وہ امریکا کے بعض اقدامات کی وجہ سے جاری نہ رہ سکے یہ بہت ضروری ہے کہ اگر دوبارہ کسی نہ کسی طرح مذاکرات کا آغاز ہوتا ہے تو پھر یہ کوشش کی جائے کہ اعتماد کے اس نازک آبگینے کو ٹوٹنے نہ دیا جائے اور نہ ہی بدگمانی کی کوئی ایسی دراڑ درمیان میں آنے دی جائے جو مذاکرات کو آگے چلنے سے روک دے۔ اطلاعات کے مطابق صدر اشرف غنی نے جامع مذاکرات کی جو پیش کش کی ہے پاکستان کو اس تجویز پر غور کرکے فوری پیش رفت کرنی چاہئے اور سفارتی سطح پر تجویز کو آگے بڑھانے کے لیے اقدامات کا آغاز کردینا چاہئے۔ یہ عین ممکن ہے کہ وہ عناصر جنہیں یہ تجویز پسند نہیں ہوگی اس کے راستے میں روڑے اٹکائیں یا پھر صدر اشرف غنی کو پہلے کی طرح کوئی ایسی پٹی پڑھانے کی کوشش کریں کہ وہ پر اناراگ الاپنے لگیں۔
افغان صدور پہلے بھی امن کی باتیں کرتے کرتے اور اس سلسلے میں پاکستان کے کردار کو سراہتے سراہتے اچانک ہی پٹری سے اْتر تے رہے ہیں اور افغان مشکلات کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، یہ بات بھی مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ بھارت صدر اشرف غنی کی اس تجویز سے خوش نہیں ہوگا کیونکہ وہ تو خطے میں اپنے لیے اس کردار کا خواب دیکھ رہا ہے جو امریکا نہ صرف اسے سونپنا چاہتا ہے بلکہ بزعم خویش سونپ بھی چکا ہے اور بھارت کو کہہ چکا ہے کہ وہ اپنی فوج بھی افغانستان بھیجے اگر افغانستان اور پاکستان مل کر کوئی ایسے اقدامات اٹھالیتے ہیں جو امن کے فروغ میں معاون ثابت ہوں اور دونوں ملکوں میں غلط فہمیاں بھی رفع ہو جائیں تو ایسی فضا میں بھارتی خواب کی تعبیر ملنا مشکل ہے، بھارت تو یہی چاہے گا کہ جس طرح اس نے کشمیر کی کنٹرول لائن پر حالات خراب کررکھے ہیں یا پاکستان کی سرحدپر کشیدگی بڑھا رکھی ہے، ایسی ہی صورتِ حال پاک افغان بارڈر پر بھی موجود ہو تاکہ اس کے پردے میں وہ اپنے خفیہ عزائم کی تکمیل کرتا رہے۔ پاکستان کو صدر اشرف غنی کی تجویز اور پیش کش کو آگے بڑھانے کے لیے عملی اقدامات جلد شروع کردینے چاہئیں۔
(تجزیہ)

Electrolux