نجی ٹی وی کا’ ’خفیہ‘‘ پروگرام بے نقاب،پیمرا تاحال خاموش

میڈیا کا کام صرف اتنا ہے کہ عوام کے مسائل کو اجاگر کیا جائے اور حکام بالا تک پہنچایا جائے لیکن اگر اسی میڈیا کی کچھ کالی بھیڑیں خود کو ملنے والی طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھائیں تو نہ صرف اس فیلڈ میں کام کرنے والے اچھے لوگ بھی بدنام ہوتے ہیں بلکہ بہت سے لوگوں کو ذہنی اذیت سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ملک کے معتبر ٹی وی چینل کی خاتون اینکر جب کوئی ایسا کام کرے تو واقعی دکھ بھی ہوتا ہے اور عوام میڈیا میں موجود اچھے لوگوں کو بھی بلیک میلر ہی گردانتے ہیں۔ایک خاتون اینکر پرسن ثنا فیصل جونجی ٹی وی چینل پر خفیہ کے نام سے پروگرام کرتی ہیں،اس پروگرام کا بنیادی مقصد مختلف جگہوں پرا سٹنگ آپریشن کرکے غیر انسانی ، غیر اخلاقی و غیر قانونی کاموں کو بے نقاب کرنا ہے۔ سوشل میڈیا پر اینکر پرسن ثنا فیصل اور ان کی ٹیم کے ایک ا سٹنگ آپریشن کی ویڈیو بڑے پیمانے پر گردش کر رہی ہے جس میں ثنا فیصل اپنی ٹیم کے ہمراہ ایک گھر پر چھاپہ مارتی ہیں اور اس کی ٹیم کے ارکان گھر کے مالک کو تقریبا گھسیٹتے ہوئے گھر کے اندر لے کر جاتے ہیں جہاں پولیس اور میڈیا کی ملی بھگت شروع ہوتی ہے۔ اینکر پرسن گھر کے مالک کو یہ باور کراتی ہیں کہ یہ گھر نہیں بلکہ ایک گیسٹ ہاؤس ہے جہاں بہت سے غیر قانونی کام کیے جاتے ہیں، اس دوران ٹیم کے ارکان مختلف کمروں میں پھیل جاتے ہیں اور ہاتھ کی صفائی دکھانا شروع کردیتے ہیں۔ ایک شخص گھر سے شراب کی بوتل برآمد کرتا ہے تو دوسرا شخص خاتون خانہ کے کمرے میں داخل ہو کر اس کی دوائیوں والی الماری میں پستول کی لاتعداد گولیاں انڈیلتا ہے اور پھر پوری ٹیم چھاپہ مار کر گولیاں برآمد کرلیتی ہے۔ثنا فیصل اینڈ کمپنی جب یہ چھاپہ مارتی ہے تو اس دوران تمام اہل خانہ پوری طرح گھبرا جاتے ہیں جبکہ صاحب خانہ قسمیں اٹھاتا اور ٹیم کی منتیں کرتا ہے لیکن کسی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی ۔

اس حد تک زیادتی دیکھ کر ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایک ویڈیو جرنلسٹ نے یہ ویڈیو لیک کردی جس سے اس پروگرام کی اینکر ثنا فیصل اور اس کی ٹیم کی کارکردگی اب عوام کے سامنے آگئی ہے، جھوٹی شہرت حاصل کرنے اور پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے ثنا فیصل اور اس کی ٹیم نے کتنے جھوٹے پروگرام کیے وہ تمام ویڈیوز سوشل میڈیا میں وائرل ہوگئی ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سی صحافتی تنظیمیں اس پر ایکشن لیتی ہیں۔ یا پھر اس ویڈیو جرنلسٹ کی بغاوت کو اپنے میڈیا ہاؤسز کی بدنامی سمجھ کر دبا دیا جائے گا ۔ یا کوئی عدالت یا کوئی قانون اس اینکر اور اس ٹیم کی جھوٹی کارکردگی اور اس میں شامل لوگوں کو سزا دلوا سکتی ہے یا نہیں ، کیا ایک بار پھر ہماری پاکستانی میڈیا کو بکاؤ میڈیاکا نام دیا جائے گا ، فیصلہ کون کریگاحکومت؟ عدالت ؟ صحافتی تنظیمیں ؟ یا پھر عوام؟چیئرمین پیمرا ابصار عالم کے لیے بھی یہ سب کچھ ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے کہ چھاپہ مار پروگرام پر پابندی ہونے کے باوجود آن آئیر ہورہے ہیں نہ صرف آن ائیر ہو رہے ہیں بلکہ ہر شریف النفس شہری کی عزت کوان چھاپہ مار بدمعاشوں سے خطرہ لاحق ہے، کس طرح چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے اور اپنے پاس سے شریف آدمی کے گھر میں گولیاں اور شراب کی بوتلیں خود ہی رکھ کر برآمدکروائی جاتی ہیں۔کیا خفیہ یا پردہ فاش کی اس خفیہ پردہ فاش ویڈیو کو دیکھ کر پیمرا کوئی عملی یا اعلانیہ ایکشن لے گا یا نہیں ؟اور کیا اس ظالمانہ نیٹ ورک سے بغاوت پر کراچی پریس کلب اور کے یو جے یونینز کیمرا مین سا جد علی کا ساتھ دیں گی؟

Electrolux