مصر، خاتون میزبانوں کی نوکری موٹاپے کی وجہ سے خطرے میں

Khadija-Khattab
مصر کے سرکاری میڈیا نے آٹھ خاتون میزبانوں کو ان کے موٹاپے کی وجہ سے معطل کردیا ہے۔ مصری ریڈیو اور ٹیلی وژن یونین نے ان خواتین کو ایک ماہ تک اپنی خوراک کم کرنے اور وزن گھٹانے کا عندیہ دیا ہے ورنہ انہیں ملازمت سے نکال دیا جائے گا۔

یونین کی سربراہ صفا حجازی نے آٹھ خواتین میزبان کو ٹیلی وژن پر آنے سے روک دیا ہے اور انہیں اپنی خوراک کم کرکے وزن کو قابو میں لانے کا حکم دیا ہے۔ یہ خبر بہت تیزی سے عالمی سطح پر پھیلی اور برطانیہ میں ٹیلی گراف اور امریکا میں نیو یارک ٹائمز جیسے موقر اخبارات نے اسے شائع کیا۔

ان میزبانوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی معطلی کے بارے میں باضابطہ آگاہ نہیں کیا گیا، ساتھ ہی انہوں نے اپنے نام منظر عام پر لانے کی بھی مذمت کی اور حیرت کا اظہار کیا کہ کیا واقعی پیشہ ورانہ اہلیت سے زیادہ شکل و صورت اہمیت رکھتی ہے؟

معطل ہونے والی ایک میزبان خدیجہ خطاب نے کہا کہ یہ اخلاقی قتل ہے، میں پندرہ سالوں سے اس ادارے میں کام کر رہی ہوں اور اب اچانک وہ مجھ سے نفرت کر رہے ہیں اور سر عام میری توہین کر رہے ہیں۔

Electrolux