نائن الیون "اندر کا کام" تھا، روس

9-11-attack

روس کے سرکاری نشریاتی ادارے "رشیا ٹوڈے" نے ان ثبوتوں کا جائزہ لیتے ہوئے ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 11 ستمبر 2001ء کو امریکا پر ہونے والے حملے دراصل "اندر کا کام" تھے۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ امریکی حکومت اور سی آئی اے کے اعلیٰ ترین عہدیداران کے یہ بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں کہ اپنے ہی عوام کے خلاف دہشت گردی کے واقعات میں وائٹ ہاؤس ملوث ہے۔

اعلیٰ حکومتی عہدیداران اور انٹیلی جنس حکام "آپریشن گلاڈیو" نامی اس مہم کی موجودگی کی تصدیق کرچکے ہیں جو سابق سی آئی اے سربراہ ولیم کولبی کے مطابق ایک 'بڑا آپریشن' تھا تاکہ وسیع پیمانے پر دہشت گردی کے واقعات کے بعد ملک میں "ہنگامی حالت نافذ کی جائے" اور "عوام کو بھیڑوں کی طرح ہانکا جائے۔"

روس کے صدر ولادیمر پیوتن نے کہا تھا کہ کریملن سیٹیلائٹ تصاویر کی صورت میں موجود دستاویزی ثبوت جاری کرے گا جس سے ثابت ہوگا کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو "باقاعدہ دھماکے سے اڑایا گیا تھا" اور وہ ان دو طیاروں کے ٹکرانے سے تباہ نہیں ہوا تھا۔ یہ رپورٹ یہاں دیکھی جا سکتی ہے:

یہ رپورٹ دو حلفیہ شہادتیں بیان کرتی ہے، جن میں سے ایک آپریشن گلاڈیو کے منصوبہ سازوں میں سے ایک ونسینزو ونسی گوئیرا کی ہے جنہوں نے کہا کہ "آپ کو شہریوں، عوام، عورتوں، بچوں پر حملہ کرنا ہوگا جو کسی بھی سیاسی کھیل سے دور ہوتے ہیں۔ یہ حکام کو ہنگامی حالت کے نفاذ میں مدد دے گا۔" مین اسٹریم میڈیا نے اسے رپورٹ نہیں کیا لیکن یہ ریکارڈ پر موجود بیان ہے۔

"نیٹو کی خفیہ افواج" کے مصنف ڈاکٹر ڈینیل گینسر وضاحت کرتے ہیں کہ آپ لوگ سچ قبول کرنے سے کیوں ہچکچاتے ہیں، چاہے اس کے پیچھے ٹھوس شواہد کیوں نہ موجود ہوں؟ "آپریشن نارتھ ووڈس اور آپریشن گلاڈیو کے ثبوت کے ساتھ ہمارے پاس اب وہ ڈیٹا دستیاب ہے اور لوگوں کو معلوم ہے کہ یہ وجود رکھتا ہے لیکن اب بھی وہ نفسیاتی طور پر دباؤ میں ہیں اور علانیہ اسے قبول نہیں کر رہے۔ کیوں؟ کیونکہ یہ بری خبر ہے۔ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ عوام کو بھیڑوں کی طرح ہانکنے کے لیے سازباز کے ذریعے دہشت گردی کی گئی ہے، اور اگر آپ کو یہ بتایا جائے کہ اصل میں آپ بھیڑ ہیں تو یقیناً آپ ایسی بات نہیں سننا چاہیں گے۔ اس لیے لوگ ان باتوں پر یقین نہیں کرتے۔"

Electrolux