ایمان کو علم بنا دینا بے ایمانی ہے، اور علم کو ایمان بنا لینا، لاعلمی!

  • قول: احمد جاوید صاحب
  • تشریح: محمد دین جوہر

ahmed-javed-sahib

ایمان کو علم بنا دینا بے ایمانی ہے، اور علم کو ایمان بنا لینا، لاعلمی!

اس قول زریں میں احمد جاوید صاحب نے علم پر مذہبی موقف کو سادہ انداز میں بیان کیا ہے۔ سب سے پہلے اس قول کی تہہ میں کارفرما موقف کو دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ گزارش ہے کہ علم کی ایسی تعریف کہیں میسر نہیں ہے، یعنی کہیں بھی میسر نہیں ہے، جس کے مطابق مثلاً فزکس اور وحی کا بیک وقت علم ہونا ثابت ہو جائے۔ اگر اس تعریف کے مطابق فزکس علم ہے تو وحی یقیناً اس تعریف سے خارج ہو گی۔ اور اگر اس تعریف پر وحی علم ہے تو فزکس کا علم ہونا محال ہے۔ اب یہ مسئلہ صرف سائنسی علوم تک محدود نہیں ہے۔ تمام تر جدید سیاسی اور سماجی علوم اور وحی کا باہمی تعلق بھی یہی ہے۔ یہ مسئلہ اتنا بنیادی اور بڑا ہے کہ اس کے جواب میں پوری تہذیب تشکیل پاتی ہے۔ جدید عہد میں ہمیں یہی مسئلہ درپیش ہے، اور ہم ابھی تک اس مسئلے کو دیکھنے کے درست تناظر کے قریب بھی نہیں پہنچ پائے، حل تو دور کی بات ہے۔ معتزلہ اور اشاعرہ کی علمی جدلیات میں اصل مسئلہ یہی تھا، اور ہمارے ہاں علم کی منقولی اور معقولی تقسیم کی بنیاد بھی اسی مسئلے کے حل کے نتیجے میں سامنے آئی تھی۔ لیکن جدید عہد میں یہ مسئلہ ایک نئے انداز میں پھر سے کھڑا ہو گیا۔ ہمارے اسلاف کی دینی اور علمی بصیرت گہری تھی، اور وہ اس مسئلے کی شدید اہمیت سے واقف تھے، اور اسی وجہ سے انہوں نے اس پر ایک طویل جنگ لڑی۔ ہم نے نہایت بھونڈے انداز میں ایمان اور جدید علوم میں تطبیق سے نہ صرف ہر طرح کے علوم ہی کا خاتمہ کر دیا بلکہ ایمان کو باقی رکھنے کے علمی اور فکری وسائل سے بھی محروم ہو گئے۔ جعلی تطبیق دینی شرائط پر ایمان کو ناممکن بنا دیتی ہے اور انسان کا عمل تاریخی قوتوں کا آلۂ کار بن جاتا ہے۔

جیسا کہ اس قول سے متبادر ہے کہ انسانی شعور میں ایمان اور علم دونوں اپنی اپنی شرائط پر باقی نہیں رہ سکتے۔ یہاں ایمان سے مراد ایمان بالغیب ہے جو صرف اور صرف خبر صادق سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ ایمان وحی کے روبرو انسانی شعور کی مکمل انفعالیت ہے، اور علم دنیا و کائنات کے سامنے انسانی شعور کی مکمل فعالیت ہے۔ اگر انسانی شعور وحی کو ماننے کی بجائے اسے ”جاننے“ کے لیے ”زیر مطالعہ“ لا کر اس پر وہی مطالبات، تحدیدات اور منہاجات وارد کرتا ہے جو وہ شے سے رکھتا ہے تو ایمان ”بے ایمانی“ میں بدل جاتا ہے۔ یہاں ”بے ایمانی“ سے مراد کفر ہے، یعنی ایمان سرے سے باقی ہی نہیں رہتا۔ اگر ہمارے ہاں عقائد کی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے تو خوب اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہمارے اسلاف ایمان کو علم بنانے کے تمام انسانی داعیات کی پیش بندی کرنے کے ساتھ ساتھ ایمان کی ”علمی“ تفصیلات پر بھی روک لگا رہے ہیں۔

اس قول زریں کے دوسرے حصے سے ایک بات فوراً واضح ہو جاتی ہے کہ ایمان اور علم کا مسئلہ اٹوٹ ہے۔ اگر مذہبی آدمی اپنے ایمان کو علم بنانے کی غلطی کا مرتکب ہو سکتا ہے تو غیر مذہبی آدمی اپنے علم کو ایمان بنانے کا داعیہ رکھتا ہے۔ مذہبی آدمی یہ کام تاریخی دباؤ کے تحت کرتا ہے اور غیرمذہبی آدمی اپنے وجودی مطالبات کی تشفی کے لیے ایسا کرتا ہے۔ اپنے طریقۂ کار اور نتائج کے اعتبار سے یہ دونوں ایک ہی طرح کی چیزیں ہیں۔ علم کو ایمان بنانا ”لاعلمی“ یعنی جہالت ہے، اور اس سے مراد ہے حقیقت سے غیاب کو حقیقت کی جگہ دے دینا، اور اس حالت انکار کی اپنے شعور، ارادے اور نفس پر سائبانی تشکیل کرنا ہے۔ یہی وہ ”لاعلمی“ ہے جس سے عصر حاضر کی غیرمعمولی طاقتور تہذیب پیدا ہوئی ہے جسے مہائی نیڈن اپنی کتاب میں ”جہالت کی تہذیب“ قرار دیتا ہے۔

Electrolux
محمد دین جوہر نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادبیات میں ماسٹر کیا۔ انگریزی صحافت سے وابستہ رہے۔ پھر مختصر سرکاری ملازمت کے بعد مستقل طور پر شعبہ تعلیم سے وابستہ ہوگئے۔ فلسفہ، تاریخ ، تہذیب اور مذہب اُن کے خصوصی موضوعات ہیں۔ محمد دین جوہرسہ ماہی جریدے " جی " کے مدیر ہیں۔ اُن سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔