دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سیکولر چہرہ: تاجکستان میں داڑھی، حج اور حجاب کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ

Tajik-President

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اصلی مقاصد تاجکستان میں بے نقاب ہورہے ہیں ۔ جہاں بتدریج شعائر اسلام کے پر عمل درآمد کو مشکل سے مشکل تر بنایا جا رہا ہے۔ اور یہ سب کچھ سیکولر ازم کے نام پر وہاں کی سیکولر حکومتیں کر رہی ہیں۔ عرب ذرائع سے ہونے والے اس سنسنی خیز انکشاف سے پتہ چلا ہے کہ تاجکستان میں داڑھی ، حج اور حجاب کے خلاف وہاں کی حکومت نے ایک غیر اعلانیہ جنگ برپا کردی ہے۔

پولیس نےگزشتہ دنوں ایک 23 سالہ نوجوان عمر بوبوگونوف کو محض اس لیے اذیتیں دے کر قتل کر دیا کہ اس نے چہرے پر داڑھی سجا رکھی تھی۔

مسلمان اکثریتی ریاست تاجکستان میں ان شعائر اسلام کے خلاف جاری کارروائیوں میں ریاستی مشنری کے استعمال کے واضح شواہد ملے ہیں ۔ معتبر اطلاعات کے مطابق تاجک پولیس نوجوانوں کو داڑھی رکھنے سے سختی سے روک رہی ہے۔ اس سختی کا ایک افسوس ناک اور اشتعال انگیز واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس نےگزشتہ دنوں ایک 23 سالہ نوجوان عمر بوبوگونوف کو محض اس لیے اذیتیں دے کر قتل کر دیا کہ اس نے چہرے پر داڑھی سجا رکھی تھی۔اس سے قبل ایک دوسرے تاجک شہری رستم گولوف کو بھی داڑھی رکھنے کی پاداش میں حراست میں لیا گیا تھا اوراُسے داڑھی منڈوانے پر زبردستی مجبور کیا گیا۔

ایک عرب آن لائن روزنامہ ’’المختصر‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ دوشنبہ حکومت نہ صرف نوجوانوں کو داڑھی رکھنے سے روک رہی ہے بلکہ خواتین کو حجاب کرنے، حج پر جانے اور بچوں کے عربی نام رکھنے پربھی پابندیاں لگا رہی ہیں۔ اگرچہ حکومت بظاہر ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان اطلاعات کی تردید کر رہی ہے مگر عملاًتاجک پولیس داڑھی والے ہرشہری کو شبے کی نگاہ سے دیکھنے اور اُسے پڑتال کی خوامخواہ اذیت سے گزارتی ہے اور محض داڑھی رکھنے کی پاداش میں کسی بھی وقت کسی شخص کو حراست میں بھی لے لیتی ہے۔

تاجکستان ایک سنی اکثریتی ملک ہے ۔ جس کی قیادت سنہ 1992ء کے بعد سے امام علی رحمان کے ہاتھ میں ہے۔وہ 1994ء سے ملک کے صدر ہیں۔ ان کے صدارت کے ابتدائی دور میں ایک لاکھ لوگ خانہ جنگی کے باعث ہلاک ہو گیے۔اُن کی حکومت بدعنوانیوں اور سخت پالیسیوں کی وجہ سے بہت بدنام ہے۔ حال ہی میں تاجک پارلیمنٹ نے انہیں’’قائد الامۃ‘‘ کا خطاب دینے کے ساتھ تاحیات ملک کا سربراہ قرار دیا تھا۔ آٹھ ملین آبادی والے اس ملک میں اپوزیشن کو دبانے پر بہت زور دیا جاتا ہے مگر شہریوں کی سماجی بہبود اور معاشی ترقی پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جا سکی ہے۔تاجکستان میں ہونے والے تمام انتخابات کو آزاد مبصرین نے غیرمنصفانہ قرار دیا ہے۔

Electrolux