ڈاکٹر عمران فاروق کی شاعری

Dr-Imran-Farooq

ڈاکٹر عمران فاروق کی زندگی میں اکثر اُن کا کلام بھی منظر عام پر آتا رہتا تھا۔ اگرچہ اُن کی شاعری پر نقاد سوال اُٹھاتے تھے۔ اور ایک طبقے میں یہ بات بھی مشہور تھی کہ ایم کیوایم کے مختلف رہنماؤں کے نام سے منظرعام پر آنے والی شاعری کچھ شعرائے کرام کے مرہونِ منت ہے، مگر ان تمام اعتراضات کے باوجود ڈاکٹر عمران فاروق کی شخصیت کا یہ پہلو بھی خاصے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ رکھتا تھا۔ ذیل میں اُن کی شاعری کے چند نمونے پیشِ خدمت ہے۔

کچھ نہیں بدلا کسی کے جانے یا آنے کے بعد
ایک چہرہ اور آیا، ایک کے جانے کے بعد
اصل مسئلہ حل نہیں کرتا، نہیں کرتے ہیں وہ
لارہے ہیں ایک نسخہ، ایک پٹ جانے کے بعد
لاکھوں انسانوں کی قسمت کھیل ہے ان کے لئے
اک کھلونا توڑ ڈالا، دل کو بہلانے کے بعد
ان کی عادت ہے پُرانی، کیوں ہے شکوہ آپ کو
’’کیسے نظریں پھیر لیں مطلب نکل جانے کے بعد‘‘

یہ تو ہو نہیں سکتا

تجھ کو بھول جاؤں میں، یہ تو ہو نہیں سکتا
ساتھ چھوڑ جاؤں میں، یہ تو ہو نہیں سکتا
میں تو ایک پتھر تھا، تو نے دلکشی بخشی
ذہن وفکر کو میرے تو نے تازگی بخشی
میرا دل تو مردہ تھا، تونے زندگی بخشی
تیرے گن نہ گاؤں میں، یہ تو ہو نہیں سکتا
دھیان تیرا رہتا ہے دن میں اور راتوں میں
ذکر تیرا رہتا ہے، خامشی میں باتوں میں
میری سب لکیریں ہیں، نقش تیرے ہاتھوں میں
نقش یہ مٹاؤں میں ، یہ تو ہو نہیں سکتا
خوف کا میں پیکر تھا، تو نے حوصلہ بخشا
دل میں گھپ اندھیرا تھا، تو نے اک دیا بخشا
مجھ کو عزم و ہمت کا جذبہ ایک نیا بخشا
بزدلی دکھاؤں میں، یہ تو ہو نہیں سکتا
جانتا ہوں مشکل ہے تیری راہ پر چلنا
چاہتا ہوں پھر بھی میں تیرے رنگ میں ڈھلنا
کام ہے تمنا کا دل کے دیار میں پلنا
آرزو مٹاؤں میں، یہ تو ہو نہیں سکتا

Electrolux