رفاعی یا رفاہی

اطہر علی ہاشمی
خبر لیجیے زباں بگڑی

Urdu

صوبہ خیبرپختون خوا کے شہر کرک سے ایک اخبار ’’دستک‘‘ کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ زبان کے حوالے سے یہ سلسلہ وہاں بھی شائع ہورہا ہے، جس کا فائدہ یہ ہے کہ پشتو بولنے والے اُن بھائیوں سے بھی رابطہ ہورہا ہے جو اردو میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اردو کو قومی سطح پر تو اب تک رائج نہیں کیا گیا لیکن اس زبان کی خوبی یہ ہے کہ آپ ملک کے کسی بھی حصہ میں چلے جائیں، یہ زبان بولنے اور سمجھنے والے مل جائیں گے۔ خیبر پختون خوا کے ایک شہر سے ایک استاد کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے مزے کی بات بتائی کہ ہم جب اردو بولتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں تم تو پنجابی بول رہے ہو۔ بات یہ ہے کہ پنجابی اردو کے بہت قریب ہے، صرف بعض الفاظ میں تلفظ کا فرق ہے۔ یہی نہیں بہت سے پنجابی دوستوں سے اردو محاورے اس دعوے کے ساتھ سنے ہیں کہ یہ پنجابی ہیں۔ اس میں حرج کوئی نہیں ہے۔ دراصل کئی ہندی محاورے اردو اور پنجابی میں در آئے ہیں۔ یہی نہیں، ان کا ترجمہ پشتو میں ہوا تو یہ پشتو ہوگئے۔ ہمارے ایک ساتھی پشتو محاورے کا ترجمہ سناتے ہیں تو ہم ان سے کہتے ہیں کہ یہ تو اردو کا محاورہ ہے۔ محاوروں پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے۔ ہمیں اسکول میں انگریزی محاوروں کا سلیس اردو ترجمہ پڑھایا جاتا تھا۔ مثلاً انگریزی کا محاورہ ہے کہ ’’بھونکنے والے کتے کاٹتے نہیں‘‘۔ اس کا ترجمہ ہمیں یہ پڑھایا گیا ’’جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں‘‘۔ دیکھا جائے تو دونوں ہی باتیں غلط ہیں یا سو فیصد صحیح نہیں ہیں۔ بھونکنے والا کتا کاٹ بھی لیتا ہے، اس محاورے پر اعتماد کرکے خطرہ مول نہ لیں۔ اسی طرح ہم سب کا مشاہدہ ہے کہ بادل برسنے سے پہلے خوب گرجتے ہیں۔ ہمارے والد ڈانٹ ڈپٹ کے بعد ہاتھ بھی چھوڑ دیتے تھے اور محاورے کا لحاظ نہیں کرتے تھے۔ یہی محاورے بنگالی اور سندھی میں بھی مل جائیں گے۔ برعظیم کی زبانوں کی ماں ’’سنسکرت‘‘ ہے، چنانچہ اس کے الفاظ مقامی زبانوں میں در آئے ہیں۔ پشتو پر فارسی کا اثر زیادہ ہے۔ جہاں تک اردو کا تعلق ہے تو اس کا بڑا حصہ عربی اور فارسی پر مشتمل ہے۔ انگریز کی آمد سے پہلے فارسی نہ صرف سرکاری زبان تھی بلکہ دفتری زبان ہونے کی وجہ سے ہر پڑھے لکھے شخص کی زبان بن گئی تھی۔ تعلیم کا آغاز شیخ سعدی کی گلستان، بوستان سے ہوتا تھا۔ بیشتر شعراء نے فارسی میں شاعری کی۔ مرزا غالب کا تو دعویٰ ہی یہ ہے کہ ان کی اصل شاعری فارسی میں ہے لیکن شہرت اردو شاعری سے ملی۔ علامہ اقبال کے کلام کا بڑا حصہ فارسی میں ہے۔ اب فارسی تو رہی نہیں اور اردو کو اس کا مقام ملا نہیں، انگریزی اس قوم کی مجبوری بن گئی ہے۔ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ زبان اپنے ساتھ اپنا کلچر، اپنی تہذیب بلکہ اپنا مذہب بھی لے کر آتی ہے۔ عربی چونکہ دینِ اسلام کی زبان ہے، اس لیے یہ بڑی حد تک نہ صرف اردو بلکہ مقامی زبانوں میں شامل ہے۔ شاید ہی اردو کا کوئی ایسا جملہ ملے جس میں عربی، فارسی کے الفاظ نہ ہوں۔ مثلاً ایک اخبار کی سرخی ہے ’’مشتبہ افراد کی گرفتاری معما بن گئی‘‘۔ اس میں مشتبہ، معما، افراد عربی الاصل ہیں اور گرفتاری فارسی۔ یہ ایک مثال ہے، آپ خود اخبار پڑھتے ہوئے یا گفتگو کرتے ہوئے غور کرسکتے ہیں۔

ہم نے سطور بالا میں لفظ ’’حرج‘‘ استعمال کیا ہے۔ یہ عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے: رکاوٹ، تنگی، سختی، نقصان، کمی، ضرر وغیرہ۔ اسی سے حارج ہے، مزاحمت کرنے والا۔ لیکن ایک اور لفظ ہائے ہوّز یعنی ہاتھی والی ہ سے ’’ہرج‘‘ ہے۔ یہ بھی عربی کا لفظ ہے اور اس میں ’ر‘ ساکن ہے یعنی ہَرْج۔ یہ مذکر ہے اور اس کا مطلب ہے: شورش، ہنگامہ، دنگا، گڑبڑ، فتنہ، نقصان، خسارہ، خلل، ڈھیل، دیر وغیرہ۔ اردو میں ہرجانہ ، ہرجہ وغیرہ مستعمل ہیں۔ عدالتی زبان میں ہرجہ، خرچہ کہا جاتا ہے۔ دونوں کے معانی قریب قریب ہیں چنانچہ ایک کی جگہ دوسرے کے استعمال میں کوئی ہرج نہیں۔

بدھ 29 جنوری کے جسارت میں یونس بارائی پر حملے کی خبر میں تین جگہ ’’رفاعی پلاٹ‘‘ چھپا ہے۔ حتی الامکان سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ رفاعی غلط ہے، یہ رفاہی ہے۔ رفاہ کا مطلب ہے: بہبود، آرام، چین، سکھ، بھلائی وغیرہ۔ عربی کا لفظ ہے اور ’’رفہ‘‘ کی جمع ہے۔ مگر اردو میں واحد ہی مستعمل ہے۔ رفاہ عام کے نام سے کراچی میں ایک بستی بھی ہے یعنی عوام یا خلقت کی بہبود کی سوسائٹی۔ لیکن اس بستی میں بھی ’’رفاع عام سوسائٹی‘‘ کے بورڈ لگے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ لغت میں ’’رفاع‘‘ کا لفظ نہیں ملا البتہ رفع ہے جو عام ہے۔ بلند کرنا، دور کرنا، معاملہ کو رفع، دفع کرنا تو آپ نے بھی سنا ہوگا۔ ’’ناجائز تجاوزات‘‘ بھی اخبارات میں عام ہیں، جب کہ تجاوزات بجائے خود ناجائز ہوتی ہیں۔

اخباروں میں ایک لفظ استعمال ہورہا ہے، وہ ہے ’’مواقعوں‘‘۔ جانے یہ مواقع کی جمع الجمع کس اصول کے تحت بنا لی گئی، صرف مواقع سے تسلی نہیں ہوتی۔ موقع کی جگہ موقعہ بھی صحیح نہیں ہے۔ ایک مضمون نگار نے ’’بلند و بانگ پہاڑی سلسلہ‘‘ لکھا ہے۔ ان دو الفاظ کے درمیان ’’واؤ‘‘ کا استعمال ویسے بھی غلط ہے، لیکن پہاڑ کا بانگ سے کیا تعلق ہے؟ بانگ تو آواز یا صدا کو کہتے ہیں، اذان کو بانگ کہا جاتا ہے۔ مرغ کی بانگ بھی سنی جاتی ہے۔ ایک بڑھیا نے گاڑی والوں سے ناراض ہوکر دھمکی دی تھی کہ میں اپنا مرغا لے کر چلی جاؤں گی، نہ اس کی بانگ سنو گے نہ نیند سے جاگو گے، پڑے سوتے رہ جاؤ گے۔ لیکن بلند و بانگ پہاڑ کا کیا مطلب ہوا؟ علامہ اقبال کا شعری مجموعہ ’’بانگ درا‘‘ اور لاہور کے استاد دامن کا مجموعہ کلام ’’بانگ دُہل‘‘ ہے۔ ممکن ہے جس پہاڑ پر یہ کتابیں رکھی ہوں یا بڑھیا کا مرغ چڑھ کر بانگ دے رہا ہو اُس کو بلند و بانگ کہا جا سکے۔

گزشتہ ماہ بھارت نے یوم جمہوریہ منایا۔ ایک مضمون میں پڑھا ’’بھارتی یوم جمہوریہ کا دن۔‘‘ ماہِ رمضان کا مہینہ، شب برأت کی رات بھی تو سنتے رہتے ہیں۔

صوبہ خیبر پختون خوا کے دوست نے ’’لالچ‘‘ کے مونث ہونے کی بڑی دلچسپ دلیل دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بچپن سے پڑھتے آرہے ہیں ’’لالچ بری بلا ہے‘‘۔ دراصل ’’بری‘‘ کا تعلق ’’بلا‘‘ سے ہے، لالچ سے نہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ’’لالچ برا فعل ہے‘‘، تب؟ یہ گڑبڑ جسارت میں بڑی پابندی سے ہورہی ہے اور بار بار ٹھیک کروانے کے باوجود ’’کی اظہار تعزیت‘‘ چھپ جاتا ہے۔ فاضل سب ایڈیٹر کے ذہن میں شاید یہی ہوتا ہے کہ تعزیت تو مونث ہے لہٰذا ’’کی اظہارِ تعزیت‘‘ ہونا چاہیے۔ ہم سمجھاتے ہیں کہ اگر ’’کی‘‘ ایسی ہی ناگزیر ہے تو ’’اظہار‘‘ نکال دو۔ بری، برا، اچھی، اچھا وغیرہ کا تعلق بعد میں آنے والے لفظ سے ہے۔ اسی طرح کی، کو، کا وغیرہ کا بھی۔ لالچ بہرحال مذکر ہے خواہ بری بلا ہو یا بری حرکت۔ ہم نے کئی مضامین میں لالچ کو مونث بنتے دیکھا ہے۔

زبان کوئی بھی ہو، اگر غلطیوں سے پاک ہو تو اچھا اثر ڈالتی ہے۔ لیکن اچھی زبان کے لیے اغلاط سے گریز کے علاوہ بھی کچھ درکار ہے۔ ایک صاحب عامر لیاقت، جو نجانے کس طرح اپنے نام میں بڑے اہتمام سے ڈاکٹر کا سابقہ لگاتے ہیں، انہوں نے مضمون نگاری بھی شروع کی ہوئی ہے۔ وہ دینی اسکالر بھی کہلاتے ہیں اور ہمیں اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں۔ وہ صحافی بھی رہ چکے ہیں۔ 3 فروری کے اپنے مضمون ’’چہار درویش‘‘ میں مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں ’’اسے ثالثی کی کوشش قرار دے کر مسئلہ پر مٹی ہی پا دوں۔‘‘ ان کے اس جملے میں خود ان کے لیے ذم کا پہلو ہے اور یہ کام مشکل بھی ہے۔ ادارتی صفحہ کے انچارج کو چاہیے تھا کہ ’’مٹی پاؤں یا مٹی ڈال دوں‘‘ کردیتے۔ لیکن بعض لکھنے والے ایسے ہوتے ہیں کہ انچارج بھی اصلاح کی ہمت نہیں کرتا۔

Electrolux